Breaking News
Loading...
giovedì 10 ottobre 2013

05:55

صدا دے رہا ہوں بابو جی 

ہماری گلی میں ایک فقیر آتا ہے ۔ وہ صدا دیتا ہے ۔ ہر چند منٹ کے بعد اسکی صدا ساری گلی میں گونجتی ہے

“ میری باری کیوں دیر اتنی کری“

اسکی صدا سنکر مجھے غصہ آتا ہے ۔ میر ے اندر کی بھٹیارن چڑ چڑ دانے بھونتی ہے۔ ایک روز میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ۔ میں نے دوڑ کر فقیر کو پکڑ لیا ۔
“ یہ تو کیا کر رہا ہے بابے ؟ “ میں نے غصے سے پوچھا
“صدا دے رہا ہوں بابو جی ! “ وہ بولا“کیا مطلب ہے تیرا اس صدا سے ؟ “ میں نے اسے ڈانٹا
“ میں منگتا ہوں ۔ مانگ رہا ہوں “ وہ بولا
“ کیا ایسے مانگا کرتے ہیں ۔ احمق پہلے مانگنا سیکھ ۔ جو مانگنا ہے منت کر کے مانگ ، ترلے کر ، سیس نوا ، دینے والے کا ادب کر ، احترام کر ۔ تُو تو اسکے خلاف شکایت کر رہا ہے ‘میری بار کیوں دیر اتنی کری ‘ بے وقوف دینے والے کی مرضی ہے چاہے جلدی دے چاہے دیر سے دے ، چاہے کم دے چاہے زیادہ دے ، چاہے دے چاہے نہ دے “

فقیر بولا “ جا بابو جی ! اپنا کام کر ہمارے معاملے میں دخل نہ دے ، مانگنے والا جانے اور دینے والا جانے تُو ماما لگتا ہے ۔ میں نے ساری زندگی یہی صدا دی ہے ۔اس نے کبھی ٹوکا نہیں مجھے ، کبھی غصہ نہیں کیا ۔ الٹا وہ مجھے دیتا رہا ہے ، دیتا رہا ہے

تلاش از ممتاز مفتی
Post più recente
Previous
This is the last post.

0 commenti:

Posta un commento

 
Toggle Footer